منگل 28 جولائی 2026 - 04:14
رہبر شہید کی پوری فکر اسلام کے تحفظ اور مسلمانوں کے اتحاد پر مرکوز تھی

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین سید انتصار مہدی نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کو پوری امت مسلمہ کا عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایران کا نقصان نہیں بلکہ اسلام کے ایک عظیم رہنما کی جدائی ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام، وحدت امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف کر دی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی فعال مبلغ حجت الاسلام والمسلمین سید انتصار مہدی نے رہبر شہید کی تشییع اور نماز جنازہ کے سلسلہ میں اپنے ایران کے دورے کے دوران حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے خصوصی گفتگو میں کہا: سب سے پہلے میں عالم اسلام اور تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی المناک شہادت پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا: یہ سانحہ صرف ایران کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا سانحہ ہے کیونکہ رہبر معظم انقلاب اسلامی کسی ایک ملک کے رہبر نہیں بلکہ عالم اسلام کے عظیم رہنما تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزاری۔

حجت الاسلام سید انتصار مہدی نے کہا: رہبر معظم انقلاب اسلامی کی نمایاں خصوصیت امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد تھی۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان وحدت کے داعی رہے، اسی مقصد کے تحت انہوں نے امہات المؤمنین اور خلفائے راشدین کی توہین کو حرام قرار دیا تاکہ امت میں اختلاف اور انتشار پیدا نہ ہو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی پوری فکر اسلام کے تحفظ اور مسلمانوں کے اتحاد پر مرکوز تھی۔

رہبر شہید کی پوری فکر اسلام کے تحفظ اور مسلمانوں کے اتحاد پر مرکوز تھی

انہوں نے مزید کہا: رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عملی طور پر امام حسین علیہ السلام کے راستے کی پیروی کی۔ جس طرح امام حسین علیہ السلام نے فرمایا تھا: "مثلی لا یبایع مثلہ"، اسی جذبے کے ساتھ انہوں نے استکباری طاقتوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور واضح کیا کہ ظلم و استکبار کے سامنے تسلیم ہونا اہل حق کا شیوہ نہیں۔

پاکستان کے اس فعال مبلغ نے کہا: رہبر معظم انقلاب اسلامی کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ فلسطین کے مظلوم عوام، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے رہے۔ اگر وہ فلسطین اور دیگر مظلوم اقوام کی حمایت نہ کرتے اور استکباری طاقتوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے تو شاید انہیں اس طرح نشانہ نہ بنایا جاتا لیکن انہوں نے عزت، استقلال اور اسلامی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا: رہبر معظم انقلاب اسلامی جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم سانحہ ہے لیکن ان کا مشن اور فکر ہمیشہ زندہ رہے گی۔

انہوں نے آخر میں کہا: پاکستان کے عوام بھی اس دلخراش سانحہ پر ایران کے عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ پاکستان بھر میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ رہبر معظم انقلاب اسلامی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ بہت سے ایسے افراد جو پہلے انہیں صرف ایک شیعہ رہنما سمجھتے تھے، آج ان کی شخصیت، استقامت اور عالمی کردار کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کا پاک خون امت مسلمہ کے اتحاد کو مزید مضبوط کرے گا اور اسلام کو باطل پر غلبہ حاصل ہوگا، ان شاء اللہ۔

رہبر شہید کی پوری فکر اسلام کے تحفظ اور مسلمانوں کے اتحاد پر مرکوز تھی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha